In Urdu //top\\ | Codex Gigas Book

کوڈیکس جیگاس (Codex Gigas)

کوڈیکس جیگاس دنیا کا سب سے بڑا اور قدیم ترین مخطوطہ ہے، جو 13ویں صدی میں تخلیق کیا گیا تھا۔ یہ کتاب تقریباً 90 سانتیمٹر لمبی اور 50 سانتیمٹر چوڑی ہے، اور اس میں 1,280 صفحات ہیں۔

اس مخطوطہ میں بائبل کے پرانے اور نئے عہد کے تراجم، یہودی تاریخ، طب، اور جادو کے بارے میں معلومات ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ کتاب دنیا کی سب سے قدیم اور مکمل ترین سیاروں کی جدول بھی شامل ہے۔

urdu details

کوڈیکس جیگاس کے بارے میں اردو میں معلومات تلاش کرنا تھوڑا مشکل ہے، لیکن میں نے کچھ اردو ذرائع تلاش کیے ہیں جو آپ کے لیے مفید ہو سکتے ہیں:

ان اردو ذرائع سے آپ کو کوڈیکس جیگاس کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔

کوڈیکس گیگاس: شیطان کی لکھی ہوئی پراسرار کتاب کوڈیکس گیگاس codex gigas book in urdu

(Codex Gigas)، جسے دنیا بھر میں "ڈیولز بائبل" یا شیطان کی بائبل کے نام سے جانا جاتا ہے، قرون وسطیٰ کا سب سے بڑا اور پراسرار ترین قلمی نسخہ ہے۔ 13ویں صدی میں بوہیمیا (موجودہ چیک جمہوریہ) میں تیار کی گئی یہ کتاب اپنی جسامت، مواد اور اس سے وابستہ خوفناک روایات کی وجہ سے صدیوں سے تجسس کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

ایک رات کا معجزہ یا شیطانی معاہدہ؟

اس کتاب کے بارے میں سب سے مشہور روایت یہ ہے کہ اسے ایک راہب، ہرمین دی ریکلس (Herman the Recluse) نے صرف ایک رات میں لکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اسے اپنے گناہوں کی سزا کے طور پر زندہ دیوار میں چن دینے کا حکم ہوا، تو اس نے جان بچانے کے بدلے ایک ایسی کتاب لکھنے کا وعدہ کیا جس میں انسانیت کا تمام علم موجود ہو۔ جب وہ اسے مکمل نہ کر سکا، تو اس نے شیطان سے مدد مانگی اور اپنی روح کے بدلے یہ کتاب مکمل کروائی۔ کتاب کی چند نمایاں خصوصیات

عظیم الشان جسامت: اس کا وزن تقریباً 75 کلوگرام (165 پاؤنڈ) ہے اور اسے اٹھانے کے لیے کم از کم دو افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔

شیطان کی تصویر: اس کتاب کے صفحہ نمبر 577 پر شیطان کی ایک بڑی اور خوفناک تصویر بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اسے "شیطان کی بائبل" کہا جاتا ہے۔

مواد: یہ کتاب صرف بائبل پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ اس میں جادوئی ٹوٹکے، طبی نسخے، اور تاریخی واقعات بھی درج ہیں۔ codex gigas book in urdu

زبان: پوری کتاب لاطینی زبان میں لکھی گئی ہے۔ اردو میں دستیاب معلومات

اگرچہ اصل کتاب لاطینی زبان میں ہے، لیکن اس کی پراسرار تاریخ کی وجہ سے اردو دان طبقے میں اس کا بہت ذکر کیا جاتا ہے:

اردو میں اس کی تاریخ اور حقائق پر مبنی ویڈیوز اور مضامین مختلف پلیٹ فارمز جیسے فیس بک اور یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔

انٹرنیٹ پر کچھ پی ڈی ایف (PDF) فائلیں بھی "Codex Gigas in Urdu" کے نام سے ملتی ہیں، جو کہ عموماً اس کی تاریخ کا اردو ترجمہ ہوتی ہیں۔ The Codex Gigas | National Library of Sweden


Codex Gigas کیا ہے؟

Codex Gigas صرف ایک بائبل نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے جسے 13ویں صدی (تقریباً 1204-1230 عیسوی) میں تحریر کیا گیا تھا۔ یہ پوری طرح ہاتھ سے لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا بے پناہ سائز ہے:

یہ کتاب اتنی بھاری ہے کہ اسے اٹھانے کے لیے کم از کم دو افراد درکار ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی بچنے والی قرونِ وسطیٰ کی مخطوطہ ہے۔ codex gigas book in urdu

تنقیدی جائزہ (پازیٹیو اور نگیٹیو)

تاریخی سفر (Historical Journey)

یہ کتاب صدیوں میں کئی مقامات سے گزری:

  1. پراگ (Prague): 13ویں صدی میں یہ یہاں تھی۔
  2. برونیف (Brno): بعد میں اسے جرمنوں نے لوٹ کر یہاں رکھا۔
  3. اسٹاک ہوم (Stockholm): تیس سالہ جنگ (1648) کے دوران سویڈش فوج نے اسے پراگ سے لوٹ کر سویڈن کے دارالحکومت لے جایا۔
  4. آج: یہ کتاب آج بھی سویڈن کے رائل لائبریری (National Library of Sweden) میں موجود ہے۔

اسے 357 دن کے لیے پراگ واپس لایا گیا تھا (2007 میں)، جسے دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگوں نے طوائفیں لگائیں۔

افسانہ: ایک راہب اور معاہدہ شیطان

اس کتاب کے بارے میں سب سے مشہور کہانی 13ویں صدی کی ہے۔ چیک شہر پراگ کے قریب پوڈلازیس (Podlažice) کی خانقاہ میں ایک راہب رہتا تھا۔ راہب نے اپنے مافوق (Abbot) کی نافرمانی کی۔ سزا یہ تھی کہ اسے زندہ دیوار میں چن دیا جائے گا۔

موت سے بچنے کے لیے، راہب نے ایک عجیب وعدہ کیا: "میں ایک رات میں ایک ایسی کتاب لکھ دوں گا جس میں دنیا کا سارا علم ہو گا، اور یہ خانقاہ کو مشہور کر دے گی۔"

آدھی رات کو جب وہ اکیلے Scriptorium (لکھنے کا کمرہ) میں بیٹھا تھا، اسے احساس ہوا کہ یہ ناممکن ہے۔ اتنی بڑی کتاب ایک رات میں لکھنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ تب اس نے شیطان کو پکارا۔ شیطان ظاہر ہوا۔ راہب نے اپنی روح کے بدلے شیطان سے مدد مانگی۔ شیطان نے پوری کتاب لکھ دی اور بدلے میں راہب کی روح لے لی۔ شناخت کے لیے شیطان نے اپنی تصویر کتاب میں شامل کر دی۔

یہ صرف ایک افسانہ ہے، لیکن یہ اتنا مشہور ہوا کہ لوگ کتاب کو ہاتھ لگانے سے ڈرتے تھے۔